Showing posts with label Pakistan News. Show all posts
Showing posts with label Pakistan News. Show all posts

Saturday, 23 July 2016

باکسر عامر خان نے بھارتیوں کو آگ بگولا کر دیا

چینل24
لاہور(ویب ڈسک) پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے ایسا بیان دے دیا کہ پورا بھارت آگ بگولا ہوگیا ، عامر خان نے کہا کہ میں بھارتی باکسر وجیندر سنگھ کا کیرئیر ہی ختم کر دوں گا۔تفصیلات کے مطابق پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے بھارتی باکسر وجیندر سنگھ کا کیرئیر ہی ختم کرنے کی دھمکی دے ڈالی ہے جس سے پورا بھارت آگ بگولا ہوگیا۔بھارتی باکسر وجیندر سنگھ نے عامر خان سے لڑنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جس پر عامر خان کا کہنا تھا کہ میں اس کا کیرئیر ہی ختم کر ڈالوں گا ، عامر خان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارا جوڑ پڑا تو یہ پاکستان بھارت کرکٹ میچ سے بڑا مقابلہ ہوگا۔دوسری طرف بھارتی باکسر کا کہنا ہے کہ میرا وزن عامر سے زیادہ ہے لیکن اگر میں تھوڑا وزن کم کروں اور عامر وزن بڑھائے تو مقابلہ ہو سکتا ہے اور ہم دونوں ہی اس بارے میں سوچ رہے ہیں۔

اسحاق ڈار آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئے دبئی پہنچ گئے

اب تک
 وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لئے دبئی پہنچ گئے۔ سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی خبریں بھی گردش کرنے لگیں۔وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار دبئی پہنچ گئے ہیں۔ جہاں وہ آئندہ ہفتے آئی ایم ایف کی ٹیم سے مذاکرات کریں گے۔ دوسری جانب سے سابق صدر آصف علی زرداری بھی دبئی میں موجود ہیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی میں قیام کے دوران اسحاق ڈار کی پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات متوقع ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ دبئی میں متوقع ملاقات میں اہم ملکی سیاسی امور پر بات چیت ہو گی۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار دبئی میں قیام کے دوران اپنے خاندان کے ساتھ بھی وقت گزاریں گے۔ آئی ایم ایف ٹیم سے ملاقات اور طویل عرصہ سے بیرون ملک مقیم سابق صدر آصف زرداری سے صف اول کی حکومتی شخصیت کی بیٹھک نے اسحاق ڈار کے دورہ دبئی کی اہمیت بڑھا دی ہے۔

اسد کھرل کا واقعہ غلط فہمی،جرائم پیشہ کی کبھی مدد نہیں کی:سہیل انور

24چینل
کراچی (24 نیوز)لاڑکانہ واقعہ کے بعد مسلسل خاموش رہنے والے وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال آخر بول ہی پڑے ،کہتے ہیں کہ اسد کھرل کا واقعہ غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا ، کسی جرائم پیشہ کو کبھی سپورٹ کیا نہ کریں گے اور میرا بھائی کسی بھی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث نہیں ہے۔لاڑکانہ واقعہ کے بعد وزیر داخلہ سندھ پہلی بار منظر عام پر آئے اور اسد کھرل کے معاملے پر کھل کر بولے ، انہوں نے کہا کے اسد کھرل 2014 سے پہلے میرے مخالفین میں سے تھا۔دوہزار چودہ میں اس نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی ، اسد کھرل کا ایک بھی کیس میں نے ختم نہیں کروایا ۔ سندھ میں امن کی بہتر صورت حال بتانے کے بعد انہوں چیف جسٹس سندھ کے بیٹے کی بازیابی کو بڑی کامیابی قرار دیا اور آئی جی سندھ سے اختلافات کی باتوں کو بے بنیاد بتایا۔وزیر داخلہ سندھ نے مزید کہا کے کسی جرائم پیشہ کی سرپرستی کی ہے نہ کریں گے ، سندھ حکومت کے افراد پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے۔

رینجرز اختیارات میں توسیع ،سائیں سرکار کی آئیں بائیں شائیں

  نیو
 
کراچی : بات کریں گے،بات ہو گئی ہے،بات کر رہے ہیں،یہ معاملہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا جس میں وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی وضا حتوں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے ۔تاہم اب کراچی میں رینجرز اختیارات میں توسیع کا فیصلہ دبئی میں کل ہو گا،جہاں شریک چیئرمین پیپلزپارٹی آصف زرداری نے 24 جولائی کو پارٹی اراکین سے مشاورت کے لیے اہم اجلاس طلب کررکھاہے۔بلاول بھٹو زرداری پارٹی دبئی پہنچ چکے ہیں جبکہ قانونی مشاورت کیلئے فاروق ایچ نائیک پہلے سے وہاں موجودہیں ،وزیراعلیٰ قائم علی شاہ، وزیر خزانہ مرادعلی شاہ اور وزیرداخلہ سندھ انور سیال بھی دبئی روانگی کی تیاری کر چکے ہیں۔جمعے کے روز وزیراعلیٰ سندھ سے کور کمانڈر کراچی کی ملاقات بھی ہوئی،ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں بیشتر معاملات طے پا گئے ہیں۔

شدید حبس‘ لوڈشیڈنگ بڑھ گئی‘ لوگوں کا برا حال‘ لاہور‘ قصور شرقپور میں احتجاجی مظاہرے

لاہور (کامرس رپورٹر+ نامہ نگاران) شدید گرمی اور حبس کے دوران لوڈشیڈنگ بڑھ گئی، معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئے، لوڈشیڈنگ سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہو گئی۔ لاہور سمیت کئی شہروں میں لوڈشیڈنگ کے ستائے لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور سڑکیں بلاک کرکے احتجاج کیا۔ شارٹ فال اور پیداوار کا فرق کم رہنے کے باعث لوڈ مینجمنٹ کا کنٹرول نیشنل پاور کنٹرول سنٹر نے اپنے ہاتھ میں رکھتے ہوئے براہ راست گرڈ کیلئے بجلی کی بندش کی ۔ جس سے وی وی آئی پی فیڈرز پر بھی بجلی کی بندش ہوئی۔ بیشتر علاقوں میں پانی کی بھی قلت ہو گئی۔ موسم خشک اور گرم رہنے اور حبس میں اضافہ کے باعث بجلی کی ڈیمانڈ ایک بار پھر بڑھ کر 21 ہزار میگا واٹ کے نزدیک پہنچ گئی جبکہ پیداوار کم ہوئی ہے۔ گزشتہ روز شہروں میں چودہ گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں اٹھارہ گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ کی گئی ۔ گزشتہ روز بجلی کی مجموعی ڈیمانڈ 20700 میگا واٹ جبکہ پیداوار 12810 میگا واٹ رہی طلب و رسد میں 7890 میگا واٹ کا فرق رہا۔ آن لائن کے مطابق دھرم پورہ اور گڑھی شاہو میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جبکہ اندرون شہر لوہاری گیٹ میں شام 7 بجے بند ہونے والی بجلی رات گئے تک بحال نہ ہو سکی، لوگ سراپا احتجاج، لیسکوں حکام شکایت کے باوجود بجلی بحال نہیں کرتے۔ قصور سے نامہ نگار کے مطابق راجہ جنگ کے گردونواح میں بجلی کی بڑھتی ہوئی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف شہریوں نے احتجاج کیا۔ شہریوں نے راجہ جنگ روڈ بلاک کر کے لیسکو کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے ٹائروں کو آگ لگائی اور توڑ پھوڑ کی۔ راجہ جنگ کے مکینوں نے قصور رائیونڈ روڈ بلاک کر دی۔ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری، شہر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18 گھنٹے سے بھی تجاوز کر جانے پر شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت اورلیسکو کے خلاف نعرے بازی کی۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق حافظ آباد میں بجلی کی بیس، بیس گھنٹے کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ جس سے نہ صرف پاور لومز انڈسٹری تباہ ہو رہی ہے بلکہ شہریوں کے کاروبار بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔لوڈشیڈنگ

کراچی میں مبینہ ’’فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ‘‘ کے خلاف دھرنے

وائس آف امریکہ اردو
مظاہرین نے الزام لگایا ہے کہ ’’فرقہ پرستی کو بڑھاوا دیتے ہوئے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کو باقاعدہ ہدف بنا کر مارا جا رہا ہے‘‘؛ اور مظاہرین نے ایسے واقعات کو فوری طور پر روکنے کا پر زور مطالبہ کیاکراچی —’مجلس وحدت المسلمین‘ نے کراچی میں مبینہ ’’فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ‘‘ کے خلاف جمعہ کو شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے اور جگہ جگہ دھرنے دیئے، جس سے شہر بھر کا ٹریفک بری طرح متاثر ہوا اور لوگ منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرکے اپنے گھروں تک پہنچ سکے۔احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ صرف کراچی تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ لاہور اور اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر بڑے اور اہم شہروں میں اسی نوعیت کے مظاہرے کئے گئے۔مظاہرین نے الزام لگایا ہے کہ ’’فرقہ پرستی کو بڑھاوا دیتے ہوئے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کو باقاعدہ ہدف بنا کر مارا جا رہا ہے‘‘۔ مظاہرین نے فوری طور پر ایسے واقعات کو روکنے کا پُرزور مطالبہ کیا۔اسلام آباد میں دھرنے کی قیادت ایم ڈبلیو ایم کے رہنما، علامہ حسن ظفر نے کی۔ سکھر میں ببرلو بائی پاس پر دھرنا دیا گیا، ٹھٹھہ میں حسینی مسجد سے مین بس اسٹاپ تک ریلی نکالی گئی اور قومی شاہراہ پر دھرنا دیا گیا جس کے باعث کئی گھنٹوں تک ٹریفک معطل رہا۔ڈیرا اسماعیل خان میں مجلس وحدت مسلمین کے کارکنوں کی جانب سے سرکلر روڈ پر احتجاج کیا گیا۔کراچی کی اہم شاہراؤں ایم اے جناح روڈ، شاہراہ فیصل جبکہ نمائش چورنگی، شاہراہ پاکستان، ملیر، انچولی اور سپرہائی وے پر دھرنے دیئے گئے جس سے ٹریفک کئی گھنٹے جام رہا اور شہری بے ہنگم ٹریفک میں بری طرح پھنسے رہے۔دھرنے شام کے اوقات میں شروع ہوئے جس کے سبب دفاتر اور دیگر کاروباری مراکز سے گھر لوٹنے والوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ لاکھوں روپے کا ایندھن ضائع ہوا۔مظاہروں سے تنظیموں کے مختلف رہنماؤں نے باری باری خطاب کیا اور اپنے مطالبات دہرائے، جبکہ اس دوران میں دھرنے اور مظاہرین کے شرکاء نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔

فوج کا سفید پوش بھائی

بی بی سی اردو
گیارہ سال قبل بھی کِسی سیاستدان نے پارلیمنٹ میں یہ بیہودہ سوال اُٹھایا تھا کہ پاکستانی فوج کے کتنے کاروبار ہیں۔ اُس وقت کے وزیر دفاع مرحوم راؤ سکندر نے تحریری جواب دیا تھا کہ 55۔ اِس ہفتے پارلیمنٹ میں پھر سوال اُٹھایا گیا کہ کُل کتنے دھندے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے جواب دیا 50۔ ٭ ماں سے چوری٭ ملا منصور کی وصیت دھندہ مندہ ہونے پر پریشانی تو اپنی جگہ لیکن جو چیز اُس وقت بھی پریشان کن تھی اور اب بھی ہے کہ پارلیمنٹ میں دی گئی فہرست کے مطابق پاکستان نیوی کے پاس اپنی کوئی ہاؤسنگ سوسائٹی نہیں ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ایک خاندان کے ایک سو سے زیادہ کاروبار بھی ہیں پاکستانی افواج کا پچاس پچپن بزنس چلانا کوئی اچنبے کی بات نہیں لیکن پاکستان نیوی کے پاس اپنی ایک بھی ہاؤسنگ سکیم نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔پاکستان نیوی ایک مدبر ادارہ ہے اِس پر نہ کبھی کوئی جنگ شروع کرنے کا الزام لگا ہے نہ کوئی جنگ ہارنے کا۔ اکثر مارشل لاء بھی بغیر اِسے بتائے لگا دیے جاتے ہیں۔ جہوریت آئے یا مارشل لاء بحریہ سمندری سرحدوں کی حفاظت میں مصروف رہتی ہے۔ بحریہ پاکستانی فوج میں وہ سفید پوش بھائی ہے جو ہو سکتا ہے اپنے بھائیوں کی خوشحالی دیکھ کر دِل میں کڑھتا ہو لیکن بظاہر اُن کی مال و دولت دیکھ کر ماشا اللہ ہی کہتا ہے۔ کبھی بھی کھل کر اپنا حصہ نہیں مانگتا کہ محلے والے کیا سوچیں گے۔اگر پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی فہرست پر نظر ڈالیں تو پاکستان کی بّری فوج اور فضائیہ نے آپ کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے ایسی ایسی سہولیات فراہم کر دی ہیں کہ آپ کو کسی سویلین سیٹھ کو منہ لگانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ آپ ایک ملٹری ہسپتال میں پیدا ہو سکتے ہیں جہاں پر ملٹری میڈیکل کالج کے تربیت یافتہ ڈاکٹر مناسب معاوضے پر آپ کی ابتدائی صحت یقینی بنائیں گے۔ بچے سیریل شوق سے کھاتے ہیں تو فوجی سیریل پیش خدمت ہے۔ اِس کے لیے دودھ چاہیے ہو گا تو نُور پور کا خالص دودھ دستیاب ہے۔چینی بھی چاہیے؟ آرمی ویلفیئرشوگر مل سے لے لیں۔ بچہ تھوڑا بڑا ہو گا تو اُسے عسکری پراجیکٹ سے جوتے اور کپڑے دلوا دیں۔ سکول بھیجنا ہے تو فضائیہ ویلفیئر ایجوکیشن سسٹم میں ڈال دیں اُس کے بعد کئی یونیورسٹیوں میں معیاری تعلیم کا بندوبست ہے۔ کاشتکاری کا رجحان ہے تو اوکاڑہ سیڈز سے بیج خریدیے، فوجی فرٹیلائزرز سے لے کر کھاد ڈالیے۔ گوشت کی ضرورت ہے تو فوجی میٹ سے خریدیے۔ باہر کھانے کا چسکا ہے تو بلیو لیگون ریسٹورنٹ آ جایے، گھر چاہیے تو ڈی ایچ اے میں پلاٹ خریدیے، عسکری سیمنٹ لیں۔ پیسے کم پڑ رہے ہیں تو عسکری بینک حاضر ہے۔ Fauji Foundation ذاتی حفاظت کے لیے اگر پولیس اور رینجرز سے اعتبار اُٹھ گیا ہے تو عسکری گارڈز یا فوجی سکیورٹی سروسز میں کسی کا اِنتخاب کر لیں۔ اور اگرچہ پارلیمنٹ میں اِس کا ذکر نہیں کیا گیا اگر کوئی چوری چکاری ہوئی ہے تو تربیت یافتہ سراغ رساں کتوں کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ یا عسکری جنرل انشورنس سے پالیسی خریدیں اور اِن سب جھمیلوں سے نجات حاصل کریں۔اگر آپ پاکستان کی پھلتی پھولتی معیشت کو دیکھیں تو یہ کافی چھوٹے چھوٹے دھندے ہیں۔ اصل کاروبار جائیداد کا ہے جس میں فوج نے بڑا نام کمایا ہے۔ آٹھ ڈی ایچ اے بن چکے ہیں اور جو پہلے سے بنے تھے اُن کی حدیں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ کراچی ڈی ایچ اے کا فیز 8 اِتنا بڑا ہے کہ اِس میں پہلے ساتوں فیز سما جائیں۔پاک فضائیہ نے اِس کاِر خیر میں دیر سے حصہ ڈالنا شروع کیا لیکن چھوٹتے ہی گوجرانوالہ میں رہائشی سکیم بنا ڈالی۔ گوجرانولہ میں فضائیہ کا کوئی بیس نہیں ہے لیکن شاہین جب آشیانہ بنانے پر آتا ہے تو اِن باتوں کی پرواہ نہیں کرتا۔ اب کراچی میں شاہینوں کے آشیانے کے نام پر لگژری فلیٹ بن رہے ہیں اور دھڑا دھڑ بِک رہے ہیں۔اب اِس پلاٹوں اور فلیٹوں کی ریل پیل میں نیوی کے پاس کیا ہے۔ کچھ نہیں۔ بس کراچی میں دو تین بلڈنگیں جہاں دفاتر کرائے پر دے کر گزارا ہوتا ہے۔ ایک کشتیاں بنانے کی ورکشاپ، کچھ پٹرول پمپ اور شاید ایک آدھ ایل این جی ٹرمینل کا وعدہ۔بُرا ہو ملک ریاض کا جو 1996 میں نیوی سے ایک معاہدہ کر کے اِس کا نام لے اُڑا۔ تب سے پورے ملک میں بحریہ ٹاؤن کے نام سے گھر، پلاٹ اور اُن کی فائلیں بیچ بیچ کر اربوں کما چکا ہے۔ پاکستان کی اصلی بحریہ 20 سالوں سے عدالتوں کے چکر لگا رہی ہے کہ ہمارا نام ہمیں واپس دلوایا جائے لیکن عدالتیں اُس کے ساتھ وہی کر رہی ہیں جو سفید پوشوں کے ساتھ کرتی ہیں۔کوئی ہے جو پاکستان کی بحریہ کو اُس کا نام واپس دِلوا سکے تاکہ وہ بھی اپنے دوسرے وردی پوش افسر بھائیوں کی طرح مستقبل کی فکر سے آزاد ہو سکے۔ اب تو ایئر پورٹ سکیورٹی فورس نے بھی اپنی ہاؤسنگ سکیم بنا ڈالی۔ کیا ہمارے سفید وردی والے محافظوں کی اِتنی بھی عزت نہیں؟

Wednesday, 6 July 2016

امید کرتے ہیں افغانستان اپنی زمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونے دے گا: آرمی چیف جنرل راحیل شریف

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیرستان کا دورہ کیا۔ آرمی چیف نے شوال اور دتہ خیل میں فوجی جوانوں سے ملاقات کی اور شوال میں جوانوں کے ساتھ نماز عید ادا کی جو ماضی میں دہشتگردوں کا گڑھ تھا۔ جس کے بعد آرمی چیف نے اگلے مورچوں پر لڑنے والے جوانوں کے بلند حوصلے اور عزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قوم اور بہادر فوج نے دہشتگردوں کے خاتمے اور ملک کا امن بحال کرنے کے لئے بڑی قربانیاں ادا کی ہیں۔ قوم اور فوج کی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ فاٹا کا علاقہ کلیئر کرایا گیا اور دہشتگردوں کا ملک بھر میں پیچھا کیا گیا، دہشتگردوں کو کبھی واپس آنے نہیں دیا جائے گا۔ آرمی چیف نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز آپریشن جاری رہے گا جبکہ کسی کو پاکستان کی زمین افغانستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر امن اور استحکام اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ دیرپا امن کیلئے بارڈر مینجمنٹ، افغان مہاجرین کی باعزت واپسی نہایت اہم ہے جبکہ افغانستان میں امن کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا گیا۔ جنرل راحیل شریف نے یہ بھی کہا کہ ہم افغان امن عمل میں خلوص نیت کے ساتھ وابستہ ہیں، اس لئے ہم امید کرتے ہیں افغانستان بھی اپنی زمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔ آرمی چیف نے تمام کمانڈرز، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ وہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

دریائے نیل میں حادثہ، چار پاکستانی ہلا

Boat Capsizes In Nile River 4 Pakistanis Drown